Blog

view:  full / summary

I am Balach Marri

Posted by bibinayelah on November 16, 2012 at 8:35 AM Comments comments (34)

میں بالاچ مری ہوں

پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

شال نومبر2009

 

اس دن میں اپنے بھانجے عزت گچکی کے بال بنوانے پارلر لے گئی نیلی جینز سفید شرٹس پہنےلڑکیاں مہارت سے بچوں کے بال بنا رہی تھیں ایک بلوچ خاتون کمرے میں داخل ہوئیں ساتھ میں چھ یا سات سال کا بیٹا تھا۔ پارلر والی ایک لڑکی نے مستعدی سے آگے بڑھ کربچے کو آئنے کے سامنے بٹھایا۔ نام کیا ہے؟ لڑکی نے ایپرن بچے کے گرد لپیٹتے ہوئے پوچھا

"میرا نام بالاچ مری ہے"

اس کا نام بالاچ ہے لیکن خود کو بالاچ مری سمجھتا ہے ماں نے سادگی سے کہا۔ کون سا سٹائل بنانا ہے لڑکی نے ذرا ناگواری سے پوچھا

"مری کٹ" بچے نے جواب دیا

ایسا کوئی سٹائل نہیں ہوتا

"بس گڑا کان" بچے نے ماں سے چلنے کو کہا۔ ماں پریشان ہورہی تھی سکول سے نوٹس آیا ہے اتنے بڑے بال رکھنے کی اجازت نہیں۔ لیکن بچہ بگڑ کر جانے لگا تو میں نے مداخلت کی "دا دے مری کٹ" میں نے ایک نسبتامناسب سے پوسٹر کی طرف اشارہ کیابچہ رک گیا میں نے کہا "میر بالاچ چنکی ٹی داوڑ انا پٹ تخا کہ" (میر بالاچ بچپن میں ایسے بال رکھتے تھے) بچہ پوسٹر دیکھنے کی بجائے میری طرف مڑا اور پوچھا کیا آپ نے بالاچ مری کو دیکھا تھا؟ جی ہاں وہ میرے بھائی جیسے تھے وہ بہت بہادر تھے۔ ننھے بالاچ کی آنکھوں میں روشنی سی لہرائی وہ مڑا اور آئنے کے سامنے بیٹھ گیا بال بننے شروع ہوئے ماں نے سکون کا سانس لیا۔ بچے کے سیاہ دراز گھنگریالے بال آدھے کٹ چکے تھے تیز قینچی کی چکا چک میں لڑکی نے سوال کیا بڑے ہو کر کیا بنو گے؟

"بن گیا ہوں بالاچ مری"

کام کیا کرو گے؟

"پنجابیوں کو اپنے ملک سے نکال دوں گا"

ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لڑکی نے ایک لمبی سی ہیں۔۔۔۔ کی اور اٹھلا کر کہا میں بھی تو پنجابی ہوں کیا مجھے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ننھےبالاچ کی لات اٹھی اور لڑکی لڑکھڑا گئ۔ صورتحال کو ہم نے کیسے سنبھالا یہ الگ کہانی ہے لیکن ہم میں اکثر کی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب روح اس غم سے درد کرنے لگتی ہے کہ ہم نے میر بالاچ کھو دیا اس وقت ہمیں اس کی بے حد ضرورت تھی لیکن تبھی کوئی نہ کوئی ایسی بات سامنے آ جاتی ہے کہ وطن کی مٹی کی طاقت پر یقین بڑھ جاتا ہے۔ میر بالاچ زندہ ہے کیوںکہ مٹی کی حرارت زندہ ہے میر بالاچ کی صورت میں اور ان تمام قابل صد احترام بلوچ فرزندوں کی صورت میں جو مادروطن سے وفا نبھاتے رہے سنگلاخ پہاڑوں تپتے ریگزاروں دہکتی اذیت گاہوں پر اپنے لہو سے ہمارے لئے درس وفا لکھتے رہے۔ یہی حرارت مییر بالاچ کے لہو میں جل رہی تھی اس سے پہلے ہزاروں سال سے ہمارے بزرگوں کے لہو میں جلتی رہی ہے جنہوں نے بھوک پیاس تکلیفوں اور سختیوں کو سہہ کر اس مٹی سے وفا کی جس کے صلے میں آج ہم اس عظیم کرد و بلوچ وطن کے وارث ہیں۔ یہ مٹی زندہ ماں ہے جو بلوچ سے ہزار ماؤں سے زیادہ محبت کرتی ہے دعا دیتی ہے۔ اس مٹی سے وفا کرنے والے دو جہاں میں کامیاب اور اس ماں کو بازار میں بہا کرنے والے رسوا بدنام ذلیل و خوار۔

اس قابض ریاست کی ہر نشانی سے کراہت آتی ہے ظلم و خونخواری کی بو آتی ہے ہمارے بچوں نے درسی کتابوں کے آخری صفحے پھاڑ کر پھینک دئے ہیں جس پر قابض کا ترانہ لکھا ہوتا ہے اس کے جھنڈے ہزاروں میل ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتے لیکن اس ریاست کی دی ہوئی ایک ایسی چیز بھی ہے جسے میں فائلوں سے نکال کر دیکھا کرتی ہوں وہ ایف آئی آر جس میں مجھ پر اور میرے خاندان پر قابض ریاست سے "غداری" کاالزام ہے کس تاریخ کو مجھے میر بالاچ کا فون آیا اور ان کے کہنے پر میں نے اپنے گھر کانک میں رئیسانی قبیلے کی میٹنگ بلائی ہم نے ریاست سے لڑنے کا فیصلہ کیا کاروائیوں کی ذمہ داریاں کس طرح تقسیم کیں اور کہاں کہاں کاروائیاں کیں۔ جس دن ہم اس ریاست کی ہر نشانی جلا دیں گے جھوٹی عدالتیں غیر قانونی کرپٹ اسمبلی جیلیں اذیت گاہیں اپنی بے عزتی بے حرمتی کی ساری نشانیاں جلادیں گے لیکن یہ کاغذ میں تب بھی جلا نہیں پاؤں گی میر بالاچ کا با شہامت نام جلایا نہیں سکتا ۔

درد و اذیت کی اس گھڑی میں جب انیس سالہ آغا نوروز احمد زئی اپنی شادی کی سفید دستار کی بجائے کفن اوڑھ کر شہداء کے قبرستان میں جا سویا اس نو عمر شہید کی مادر محترم نے کہا" نوروز کہتا تھا آپ میری ماں ہیں لیکن بلوچ مٹی ہزار ماؤں سے بڑھ کر میری ماں ہے میرےپاس اس سر کے سوا اور کچھ نہیں یہ سر اپنی مٹی پر قربان کر دوں گا"

بچے یہ باتیں کہاں سے سیکھ رہے ہیں؟

آغا نوروز کی مادر محترم نے کہا" مٹی خود سکھا رہی ہے انقلاب کی خوشبو پھیل رہی ہے صاف روحیں اس خوشبو سے مہک رہی ہیں اور بد روحیں اس خوشبو سے خوفزدہ ہیں۔ میرا نوروز جب ذرا بیمار پڑ جاتا تو میں ساری رات اس کے سرہانے جاگ کر کاٹتی تھی وہ گھر آنے میں ذرا دیر کرتا تو پریشان ہو جاتی بار بار فون کرتی جلدی گھر آجاؤ آج میرا بیٹا وطن پر قربان ہوگیا ہے کبھی اسے دیکھ نہیں پاؤں گی لیکن میرا دل درد نہیں کر رہا شہید کی ماں کو اللہ درد نہیں دیتا۔ میرے آنسو بہتے ہیں لیکن میں جانتی ہوں وہ حق کی راہ میں گیا ہے بلوچ خواتین کی بے حرمتی اسے برداشت نہیں تھی وطن کی غلامی اسے برداشت نیہں تھی۔ میری یہ بات امانت ہے پروفیسر، تمام بلوچ ماؤں تک پہنچا دیناکہ شہید کی ماں کو اللہ درد نہیں دیتا اپنے بیٹوں کو وطن کی راہ میں روانہ کر دو۔ شہیدوں کے خون کا بدلہ وطن کی آزادی ہے اس سے کم کچھ نہیں

سردار خیر بخش مری آج اپنی فکر اور جدوجہد سے مٹی کے لئے ورنا نوروز و ورنا مجید جان کی طرح لاکھوں اور بالاچ پیدا کر سکتے ہیں لیکن خود ان کے لئے بالاچ کی روشن آنکھیں کہاں سے لائیں۔ جب وہ میر بالاچ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی سنہری دھوپ جیسی آنکھوں کے کنارے سرخ ہونے لگتے ہیں وہ بہت محبت سےاپنے بہادر اور جفاکش بیٹے کا ذکر کرتے ہیں سادہ الفاظ میں آہستہ آہستہ گھنٹوں باالاچ کی باتیں کرتے ہیں ان کے دھیمے لحجے میں لپٹی آنچ اندر جلنے والی آگ کا پتہ دیتی ہے۔ کسی نے کہا تھا بالاچ کلاسیکل بلوچ ہیروز کا نام کہا ہے جس کے معنی ہیں بالائی آگ نیلا شعلہ جس کی تپش نظر آنے والی سرخ آگ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ میر بالاچ کو بہ ظاہرہم سے چھین لینے والے ہر باغیرت بلوچ کے سینے میں سانس لینے والے بالاچ سے ناواقف ہیں سرخ آ گ سے بچ نکلنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہاں نیلی نظر نہ آنے والی آگ انہیں جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ جس کے سینے میں صدیوں سے آتش فشاں جل رہا ہے لیکن پر سکون سفید برف سے ڈھکے چلتن کی طرح ہمارے رہنما سردار خیر بخش مری بلوچ وطن کی آزندی پر پختہ یقین رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں "میں چاہتا ہوں بلوچ اتنا مظبوط ہو جائے کہ کوئی بری نظر ڈالنے کی جرءات نہ کرے اور اگر کوئی دانت گاڑنے کی کوشش کرے تو اس کے دانت ٹوٹ جائیں"

"ہم سارے حساب چکا لیں گے آزادی ہمارا مقدر ہے لیکن بی بی زرینہ کا حساب کیسے چکائیں؟"

"ہم ایک دوسرے کو کامریڈ کہہ سکتے ہیں؟کامریڈ بہت گہرے معنی رکھنے والا لفظ ہے پتہ نہیں میں آپکی دوستی کے قابل ہوں بھی یا نہیں؟" دل میں سوچا چلتن سے دوستی تو ابدی ہے لیکن یہ انکساری قطعا جان لیوا ہے۔ کامریڈ خیر بخش مری ہم جیسے نالائقوں سے بھی رائے پوچھتے ہیں اور ہم علم کے اس سمندر کے سامنے بولتے ہوئے ایسے لگتے ہیں جیسے پہاڑی چشمہ جس میں پانی کم لیکن شور زیادہ ہو۔ وہ مسکراتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے سوال کرتے جاتے ہیں جیسے پہاڑی کے پتھر بپھرے ہوئے گم کردہ راہ پانی کو سمندر کی طرف راہ دکھاتے ہیں۔ ہمارے آزاد وطن کا سماجی معاشی ڈھانچہ کیا ہوگا؟ انقلاب کے ثمرات ہر گاؤں ہر کوچے ہر بلوچ تک کیسے پہنچائے جا سکیں گے؟ سب کی برابری کیسے ممکن بنائی جاسکے گی؟ سیاہ فام بلوچ سفید فام بلوچ میر و سردار بلوچ مرہٹہ نقیب درزادہ بلوچ، مرد بلوچ عورت بلوچ مسلمان بلوچ ہندو بلوچ ذکری بلوچ نمازی بلوچ سب برابر ہیں۔ سیاہ کاری و بلوچ خواتین کو نابرابر قرار دینے والے رسم و رواج و قوانین کا خاتمہ صرف بی این ایف کے پروگرام میں شامل کر دینا کافی ہو گا؟ انہیں بلوچ سماج کی جڑوں سے نکالنا کیسے ممکن ہے؟ اس وقت ایسے لگتا ہے چلتن بول رہا ہے نفسک بول رہا ہے۔ گچین چنیدہ لوگوں کی صورت میں بلوچ مٹی بول رہی ہے ہزاروں سال سے بول رہی ہے تا قیامت بولتی رہے گی مہر گڑھ کی صورت میں دنیا کی پہلی شہری تہذیب دے کر بولتی رہی ہے بلوچ خواتین کے ہنر مند ہاتھوں سے کشیدہ کاری و قالین بافی کی صورت میں مہر گڑھ کی تاریخ کو گیارہ ہزار سال سے زندہ رکھتے ہوئے بول رہی ہے۔ ماد کوچک، زراب شالین، امیر پندران و کک کوہزاد جیسے کرد سورماؤں کی صورت میں بولتی رہےگی۔ بانڑی سیمک بیبو رابعہ خضداری حانی و ماہ ناز کی حق گوئی و اولالعزمی کی صورت میں بولتی رہے گی۔ میر حمل جئیند، نوری نصیر خان، میر محراب خان، نفسک کے غازیوں، سردار دوست محمد بارانزئی، میر رحیم زرد کوہی، جنرل شیر محمد مری، اسد مینگل، احمد شاہ کرد،میر سفر خان، نواب نوروز خان زہری، میر لونگ خان مینگل، حمید بلوچ، نواب اکبر بگٹی، میر بالاچ مری، واجہ غلام محمد، لالہ منیر، واجہ شیر محمد اور ہزاروں شہدا و غازیوں کی انتھک سرفروش جدوجہد کی صورت میں بولتی رہے گی۔ پہاڑوں ریگزاروں اذیت گاہوں میں جان نثار کرنے والے سرمچاروں ، شاہراہوں اور انصاف کے جھوٹے ایوانوں کے سامنے بغاوت کے نعرے بلند کرنے والی بہادر بلوچ خواتین و بچوں کی صورت میں بولتی رہے گی، مٹی تو ہمیشہ بولتی رہے گی لیکن آج ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ذات کی کمزوریوں اور خود غرضیوں سے لڑیں اتنے صاف ہو جائیں کہ مٹی ہمیں بھی اپنی بات کہنے کے لئے منتخب کر لے ہماری ناتواں آواز میں بھی یہ عظیم مٹی بولنے لگے۔ میر بالاچ کو دشمن نے ہم سے چھین لیا لیکن ان کے لہو میں جلنے والی بغاوت کی آگ ہمارے لہو سے کون چھین سکتا ہے۔ ننھے بالاچ کی طرح کروڑوں بلوچوں کے لہو میں میر بالاچ سانس لے رہے ہیں ان کے خواب سانس لے رہے ہیں ذرا سا وطن کی مٹی کے قریب ہو کر دیکھیں اپنے اندر کی بزدلی مفاد پرستی کو کمزور پڑتا محسوس کریں گے مٹی کی طاقت لہو میں جل اٹھے گی روح کی گہرائیوں میں جب بھی میر بالاچ مری کی جدائی کا درد اٹھے گا تو لہو میں جلتی بغاوت کی آگ ہم کو یقین دلائے گی کہ میر بالاچ زندہ ہیں اور ہم ننھے بالاچ کی طرح کہہ اٹھیں گے "میں بالاچ مری ہوں"

 

 

a suggestion to implement the Liberation Charter

Posted by bibinayelah on November 3, 2012 at 10:05 PM Comments comments (3)

بات مگر احتیاط

پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

بھٹو شاہی کا وحشتناک اندھیرا وطن پر چھایا تھا بار کے صدرمیمن صاحب وکلا کے اجلاس میں اعلان کرتے ہیں کہ وزیر اعظم بھٹو بلوچستان بار سے خطاب کرنے آئے گا قادری صاحب کھڑے ہو گئے اورکہا کہ بھٹو چونکہ ڈکٹیٹر ہے بلوچستان پر ملٹری آپریشن کروا رہا ہے وہ ایک جمہوری ادارے میں نہیں آ سکتا " صدر بار نے یاد دلایا" آپ صرف گیارہ ممبر ہیں ہمارے ساتھ وکلا کی اکثریت ہے اور آپ کو اکثریت کی بات ماننی پڑے گی بھٹوضرور آے گا" قادری صاحب نے کرسی اٹھالی" بھٹو آئے گا تو یہ کرسی اس کے سر پر ماروں گا" بھٹو نہیں آیا گورنر ہاؤس میں چاپلوس وکلا نے بھٹو کا خطاب سنا۔ نیپ کے گیارہ وکیل امتیاز حسین حنفی صاحب کی سربراہی میں کبھی گیارہ سے بارہ نہ ہوئے لیکن کبھی دس بھی نہ ہوئے۔۔ ہمارا بچپن بھٹو ملٹری آپریشن کے دھویں سے زہر آلود گزرا صبح گھر سے نکلتے ہوئے باپ کوکبھی اس یقین کے ساتھ خدا حافظ نہیں کہا کہ دوبارہ انہیں زندہ دیکھ سکیں گے بچپن سے ہم نے اپنے گھر میں گوریلا ساتھیوں اور نیپ کے رہنماؤں کو دیکھا لیکن ایک شخصیت ایسی تھی جن کے لئے ابا کے دل میں خاص جگہ تھی ۔ محمد خان لانگو ماما ! وہ یہ چائے پسند نہیں کریں گے ابا نے ٹی کوزی میں ڈھکے قہوے کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا، جس کے ساتھ گرم دودھ اور چینی الگ سے رکھے تھے، میں نے پہلی بار چائے بنانا سیکھا کیونکہ شہیدمجید لانگو کے والد صاحب کو دودھ پتی پسند تھی ننھے ہاتھوں سے جیسی الٹی سیدھی چائے بناتی ماما پی لیتے تھے۔ آج وہی محمد خان لانگو ایک نہیں دو نہیں تین بیٹے بلوچ مٹی پر قربان کر چکے ہیں۔ خدا عمر خضر عطا فرمائے اپنی تدفین کے لئے ابا جان نے ایک پہاڑی ٹیلے کا انتخاب کر رکھا تھا، بے رواج دشمن کے پے در پے چھاپوں کے ہاتھوں چادر بچانے میں کئ سال ابا کا چہرہ نہیں دیکھ سکی ایک دن اطلاع آئی ورنا مجید لانگو نے اپنے شہید بھائی کی طرح بلوچ ہیروز کی تاریخ میں ایک نئے شاندار باب کا اضافہ کردیا ہے اگلے دن بہت دور سے ابا کا پیغام آیا "میں نےاپنی تدفین کی وصیت بدل دی ہے مجھے ورنا مجید جان کے پہلو میں دفنا یا جائے۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا دوستی اور دشمنی کی بنیاد کل بھی بلوچ مٹی تھی آج بھی ہے احترام کا پیمانہ کل بھی قربانی تھی آج بھی ہے لیکن ایک ایسا نام ہے جو کل بہت دورتھا آج بہت پاس ہے نواب اکبرخان بگٹی کا نام۔ یہ کیسی تبدیلی ہے کہ بھٹو کیمپ کا سب سے بڑا ستون سمجھا جانے والا بلوچ کی آبرو پر جان سے گزر گیا۔ اپنی بادشاہی جیسی ریاست، دولت طاقت کیا نہیں تھا جو وطن پہ قربان نہ کیا۔ شہید نواب اکبر بگٹی نے دنیا کو بتایا کہ بلوچ کس شان سے زندہ رہتا ہے اور کس آن سے موت قبول کرتا ہے۔ یہ جادوئی تبدیلی تو نہیں ہو سکتی۔ کیا بلوچ نے ماضی میں انہیں سمجھنے میں غلطی کی یا انہوں نے سمجھایا ہی نہیں اپنی شکائت اپنا دکھ بلوچ سے بانٹا ہی نہیں ۔ بلوچ اس ٹوٹے ہوئے گھرانے کے بچوں کی طرح سہم کر رہ گئے جن کے ماں باپ علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں خاندان تقسیم ہو کر رہ جاتے ہیں بچے اس تقسیم میں جس کے ہاتھ آئے وہ دوسرے کے خلاف زہر افشانیاں کر کے نفرت کے بیج بوتا چلا جاتا ہے یہ سوچے بنا کہ نفرت کی فصل کئ نسلوں کو کاٹنی پڑے گی۔ شہید نواب صاحب کی جدوجہد کے کئ باب ہماری نظروں سے غائب رہےکوئی تحریر کوئ کتاب اتنے سال نہ بولی۔ وہ مجیب الرحمن سے ملے اور بلوچ و بنگالی کے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان ڈھاکہ میں پریس کے سامنے کیا تو پنجابی فوج کو بخار چڑھ گیا لیکن وہ کیا وجوہات تھیں کہ نیپ نے اعلان لاتعلقی کر دیا بجائے حمائت کرنے کے؟ شال کی سڑکوں پر بنگالیوں پر پاکستانی فوج کشی کے خلاف نواب اکبر بگٹی کی قیادت میں بلوچ مارچ کرتے ہیں تو کس کے ایوان لرزنے لگتے ہیں لیکن اسکی مخالفت پھر ہماری نیپ کیوں کرتی ہے۔ بنگالیوں کے ساتھ ہی پاکستان کو خدا حافظ کرنے کی بجائے مرتے ہوئے پاکستان کو کون سہارا دیتا ہے؟ پھر ساتھیوں سے بے وفائی کا بدلہ لینے کون بلوچ کو آگ و خون میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ سب گزر توگیا مگر جگر پر داغ باقی ہیں ان داغوں کو چراغوں کی طرح روشن کر کے آج ان غلطیوں کو دہرانے سے بچا جا سکتا ہے۔ بات کا حق سب کو ہے لیکن احتیاط لازم ہے کہیں کہے لکھے ہوئے تیز دھار لفظ پھر کسی زخم کا باعث نہ بن جائیں۔ بلوچ اپنے بڑوں کی انتہائ قدر کرنے والی قوم ہے ہمارے بزرگوں کے پاس چار ہستیاں تھیں جن کے ایک اشارے پر وہ آگ میں کود جانے کو تیار تھے سردار عطااللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مری اورنواب اکبر بگٹی۔ انہوں نے جو بہترین کیا ہمیں اس پر فخر ہے لیکن جو انہوں نے غلط کیا ہم اس کے بھی اتنے ہی وارث ہیں جتنا ان کے کارناموں کے۔ لیکن تب کے بلوچ اور اب کے بلوچ میں ایک نمایاں فرق ہے، تب بلوچ صرف "جی" کہنا جانتا تھا آج "کیوں" کہنا بھی جانتا ہے۔ کل ہمارے بزرگ رہنماؤں کے درمیان دشمن گھسنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن آج شکست دشمن کا مقدر ہے کیونکہ آج بلوچ رہنماؤں کو تنہا تنہا کر کے توڑنے کی اجازت بلوچ نہیں دے گا۔ آج نواب براہمدغ بگٹی ہیں یا میر حیر بیار مری، بانک کریمہ بلوچ ہیں یا بانک ہوراں بلوچ، میر نوردین مینگل ہیں یا کامریڈ خلیل بلوچ، ماما ‍قدیر ریکی ہیں یا خان سلیمان داؤد، ڈاکٹر اللہ نذر ہیں یا جنرل اسلم کرد یا

جنرل ودود رئیسانی، بلوچ سب سے محبت کرتا ہے سب کا احترام کرتا ہے سب کی رہنمائی کی قدر کرتا ہے لیکن سب سے جواب دہی کا حق بھی رکھتا ہے۔ کسی کی انا بلوچ کی بقا سے بڑھ کر نہیں۔ بلوچ کی رہنمائی کا حق اسی کو حاصل ہے جو اپنی انا کو شکست دے سکتا ہے نہ کہ انا سے شکست کھا کر بلوچ کو تباہ کرسکتا ہے۔ سب کی رائے قابل احترام ہے لیکن اپنی رائے دوسروں پرتھوپنا جائز نہیں۔ چارٹر آزادی پیش کرتے ہوئے میر حیر بیارمری نے یہ قطعا" نہیں کہا کہ یہ کلمہ ہے جس نے نہیں پڑھا وہ کافر ٹھرا، نہ ہی نواب براہمدغ بگٹی نے اسے یکسرمسترد کیا ہے ابھی بحث و مباحثہ کی قطع و برید کی گنجائش باقی ہے۔ ہمیں چارٹر اس نوٹ کے ساتھ ملا کہ ایک مدبر استاد اور ایک مہربان ماں کی طرح پڑھ کر رائے دیں۔ سٹڈی سرکل میں ساتھیوں کے ساتھ چارٹر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس کی روح نوری نصیر خان کے آئین کی ہے، حقوق کا سٹینڈرڈ اقوام متحدہ کے ڈیکلیریشن آف بیسک ہیومن رائٹس کا اور آزادی کا لائحہ عمل بلوچ ریپبلکن پارٹی کا پروگرام ہے۔ چند نکات بی آر پی کے منشور میں زیادہ واضح ہیں اور کچھ نکات (بلوچ نیاڑی) ورلڈ بلوچ ویمنز فورم کے پروگرام میں ہیں جو چارٹر میں موجود نہیں۔ چند نکات پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ میری حقیر رائے میں تمام آزادی پسند تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو بین الاقوامی قوانین، سماجیات و سیاسیات کا علم رکھتے ہوں وہ ایک تفصیلی نشست میں چارٹر آزادی، بی آر پی کے پروگرام اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کے پروگرام کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک غیر متنازعہ اور مکمل نمائندہ مینی فیسٹو یا چارٹرمنظور کریں جو دنیا کے سامنے حمائت و تعاون کے لئے پیش کیا جائے تا کہ اقوام متحدہ، امریکی کانگریس یورپی پارلیمنٹ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے لئے آزاد بلوچستان کا مستقبل واضح ہو سکے اور وہ دل کھول کر ہماری تحریک آزادی کی مدد کر سکیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے کی مشق ہو گی لیکن اسکا شیریں پھل چار سو صدی تک بلوچ حاصل کرتا رہے گا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Baloch go on! freedom is our destiny!

Posted by bibinayelah on October 13, 2012 at 3:05 AM Comments comments (4)

 

 

مڑ کر نہ دیکھو! آگے بڑھتے چلو

پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

اکتوبر 2012

بلوچ قومی تحریک آزادی ایک صدی کی مدت پوری کر چکی ہے اس دوران بڑی

چھوٹی فتوحات شکست ریخت تجربات کا ایک بے بہا خزانہ اکھٹا ہو چکا ہے۔ جو قدم قدم پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے ليےہماری رہنمايی کرتا ہے۔ تجربہ کار لوگ غلط فیصلہ لالچ و بزدلی کی بنا پر تو کر سکتے ہیں لیکن نا تجربہ کاری کا بہانہ نہیں بنا سکتے یہی وجہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک آزادی کی قیادت کا بوجھ اٹھانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور چنوتی بھرا ہو چکا ہے اب نۓ تجربات کرنے کے ليےقوم کو اندھا دھند جھونک دینے اور بھیانک نتايج پر مصنوعی معصومیت کا ڈھونگ یہ کہہ کر نہیں رچایا جا سکتا کہ ہمیں کیا پتہ تھا کہ دشمن دھوکہ باز ہیں؛ کیونکہ ہماری قومی تاریخ کی لیبارٹری میں ہرٹیسٹ کا نتیجہ بار بار یہی آ چکا ہے کہ ہمارا دشمن جھوٹا دھوکہ باز اور انتہايی بزدل ہے جس کے اسلامی لبادے کے پیچھے کافر چھپا ہے جو قران پر جھوٹ بولتا ہے جو ہماری بہنوں بیٹیوں کو بے آبرو کرتا ہے ہمارے بزرگوں کی سفید داڑھی کی بے حرمتی کرتا ہےہمارے لعل و گہر جیسے نوجوان جن پر بلوچستان کا مستقبل منحصر ہے ان کے دل اور آنکھیں ڈرل مشین سے چھلنی کرتا ہے جیسے ہماری آنکھوں اور دلوں سے آزادی کے خواب وہ ایسے چھین ہی تو لے گا لیکن جب دیکھتا ہے کہ زخموں سے چور شہدا کے مزار خوف کی بجاۓ جذبہء آزادی کے مینار نور بن جاتے ہیں تو ذلت و شکست خوردگی کے ہاتھوں پگلا کر شہدا کے مزار جلانے کی نیچ ترین حرکت تک سے دریغ نہیں کرتا۔ اس دشمن سے ہاتھ ملانے اس کے کسی ذیلی ادارے مثلا میڈیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ یا فوج پر بھروسہ کرنا غلطی نہیں بلکہ گناہ ہے گناہ کبیرہ ہے۔ کیونکہ تحریک کسی ابتدائی سطح پر نہیں کہ کسی کو دشمن کی ادا‎ؤں کا اندازہ نہیں اور غلطی ہو گئی۔ آج بلوچ کا بچہ بچہ دشمن کے ہر ہتھکنڈے سے واقف ہے اسی لیۓ آج بلوچ کی قیادت ہر کسی کے بس کی بات نہیں کہ چند جذباتی نعروں سے بہلا دیا اورپارلیمانی منڈی میں لے جا کر بیچ دیا۔ اگر آج بلوچ نے اپنی ننگ و ناموس کی چادرسے آزادی کا پرچم بنایا ہے اسے شہدا کے انمول خون سے رنگ دیا ہے تو وہ اس پرچم کو ہر حال میں بلند رکھنا بھی سیکھ چکا ہے۔ سو سال کے سفر میں آج وہ خوبصورت مقام آیا ہے جب پہلی بار بلوچ خود اپنا رہنما بنا ہے آج وہ کسی طلسماتی شخصیت پربھروسہ کرنے کی بجاۓ اپنے جذبہ آزادی پر بھروسہ کرتا ہے۔ آزادی کے

کارواں میں جو شامل ہے وہ قابل صد احترام ہے اگلے پچھلے گناہ معاف کروانے کے ليے قومی حج سمجھیں یا آگ و آب کا امتحان جس سے گزرنے والا پاک صاف سچا بلوچ بن کے نکلتا ہے بد قسمت ہو گا وہ انسان جسے بلوچ مٹی نے جنم دیا بلوچ ہواؤں نے پروان چڑھایا بلوچ سمندر نے پہچان دی بلوچ کوہساروں نے عظمت دی لیکن وہ بلوچ وطن کے ننگ و ناموس کی جنگ میں شامل نہیں لیکن بد بخت ترین وہ ہے جو آج بلوچ کے فتح و کامرانی کی طرف گامزن کاروان آزادی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ تو بلکل واضح ہے کہ ایسی کوئی کوشش کامیابی کا تصور بھی نہیں کر سکتی لیکن قابض ریاست کے گلے میں پڑے پھندے کو ڈھیلا کرنے کی کوشش ضرور سمجھی جا سکتی ہے۔

قابض ریاست اس وقت انتہائی مشکل میں پھنس چکی ہے۔ بین الاقوامی ہایئڈروکاربن جنگ میں انرجی کاریڈور پر قبضہ کرنے کے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں بلکہ جاۓ ہزیمت تو یہ ہے کہ خود تاریخ کے بد ترین انرجی کرائسس کا شکار ہے۔ بلوچ تیل گیس اور کوئلہ کے ذخائر پر براہ راست فوج کا قبضہ ہے جس سے انرجی کی ضروریات پوری کی جاتی تھیں حتی کہ انہی وسائل سے بجلی بھی پیدا کی جاتی تھی لیکن بلوچ سرمچاروں کی بھرپور جدوجہد نے وسائل کی لوٹ مار میں نمایاں کمی کر دی ہے جس کے نتیجے میں قابض ریاست بلبلا اٹھی ہے کارخانے بند بے روزگاری عروج پر ایکسپورٹ تباہ۔ معیشت کا انحصار بیرونی قرضوں اور امداد پرتھا جن کے حصول کے لئے خطے میں جنگ و دہشت گردی پھیلائی جاتی جس کا پردہ بھی فاش ہو چکا ہے اور بیرونی امداد ختم ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کو دہشت گردی ختم کرنے کے لئے ڈالر اور اسلحہ دینے کی مزید حماقت کرنے پر اب کوئی تیار نہیں۔ نیٹو موجود ہے کراۓ کے فوجی کی بھی ضرورت نہیں حال یہ ہے کہ فوج کو تنخواہ دینے کے لئے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے۔ لہذا بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ چین کی مکمل فوجی اور اخلاقی رضامندی کے باوجود بلوچ کو کچل کر سونے اور ساحل پر قبضہ کی سازش ناکام ہو چکی۔ الیکشن سر پر ہیں اور بلوچ آزادی کی منزل تک جا پہنچا ہے بلوچ کا الیکشن بائکاٹ ایسا ریفرنڈم ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے کہ جس کے بعد اقوام متحدہ کے پاس بلوچستان میں مداخلت کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا جس کے معنے قابض ریاست کا خاتمہ ہے۔ کیا ایسی صورت حال میں سنگل پوائنٹ ایجنڈا "آزادی" پر متحد ہو کر جدوجہد آزادی تیز کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دشمن

ناکام ہو یا دشمن کے ذیلی اداروں سپریم کورٹ و پارلیمنٹ کے ڈراموں کا حصہ بننے کی ضرورت ہے تا کہ اقوام عالم کا قابض ریاست پر اعتماد بحال ہوسکے؟؟ نہیں یہ قابل معافی نہیں یہ ایٹمی دھماکوں کا حصہ بننے سے بھی زیادہ بھیانک غلطی ہو گی۔ سوسال کی بلوچ قومی تحریک کے تجربات ایسی غلطی کی بھلے سے اجازت نہ دیتے ہوں ذرا بنگلہ دیش بننے کے وقت کی سنگین غلطی اور اس کے درد انگیز نتائج یاد کر لو دو قومی نظریہ شکست کھا چکا تھا قابض ریاست ٹوٹ چکی تھی بنگالی اپنا ملک الگ کر چکے تھے سوویت یونین متحرک تھا امریکی بحری بیڑہ راستہ بھول چکا تھا وہ وقت بلوچستان کی آزادی کا اعلان کرنے کا تھا یا شکست خوردہ گری پڑی ریاست کو سہارا دے کر نو مہینے کا مخلوط اقتدار لے کر قومی آزادی کی منزل کو چالیس سال پیچھے دھکیل دینے کا؟؟

پھر بلوچ کے گدان جلے چادریں تار تار ہوئیں خون کے دریا بہے آخر ایٹمی دھماکوں کی آگ میں جھونک دیا گیا جس کی تباہ کاری صدیوں تک کینسر اور معذوریوں کی شکل میں جاری رہے گی۔

چالیس سال بعد آج بلوچ پھر آزادی کے قریب ہے بلوچ مٹی کا ذرہ ذرہ آزادی کی تڑپ سے بے قرار ہے۔ آج دشمن تاریخ کے کمزور ترین دور میں ہے کائنات اس کی تباہی پر تلی بیٹھی ہے کل تک اس کے حامی و مدد گار آج اس سے بیزار ہیں اقوام عالم کی نظروں سے گرا پڑا ہے آج بلوچ طوفان ظلم کی بنیاد مٹا دینے کو تیار ہےاگر تھک گۓ ہو تو سانس لے لو خاموشی اختیار کر لو کوئی شغان نہیں دے گا جس کا جتنا بس ہے اتنا سفر کیا لیکن کاروان کوروکنے کی موڑنے کی گمراہ کرنے کی کوشش مت کرو۔

آزادی کی منزل کی طرف بلوچ کاروان بڑھ رہا ہے ساتھیو آگے بڑھو پیچھے مڑ کر دیکھنے والے پتھر کے ہو جائیں گے مڑ کر نہ دیکھو آگے بڑھتے چلو۔ کھونے کو ٹاچر سیل اور غلامی کے سوا کچھ نہیں جیتنے کو باشرف متحدہ جمہوری عظیم بلوچستان ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔

=======================================


Baloch Liberation Charter, input suggestions

Posted by bibinayelah on October 10, 2012 at 6:40 AM Comments comments (3)


Baloch Liberation Charter

Suggestions, inputs

This Charter is a great hope for Baloch masses now we can see light at the end of the dark tunnel, now we know for what exactly we are sacrificing our today. Our children shall not be bound in chains of tribal hierarchy and biases of class, gender, and religion. It is a valuable instrument for all of us for lobbying with international powers. Few additions and corrections can make it even more wonderful some of them are suggested as below. Hope Baloch masses will take all possible benefit from the Charter of Liberation.

1-In the first part “Prologue” Baloch history starts since 1666 but indeed our unique history is recorded since 9000 BC the Mehrgarh, Baloch is the creator and preserver of the first urban civilization on earth that gave the first wheel, agriculture, chemistry, geometry, town planning and much more, that was a society of peace and had highest respect for women as a matrilineal society. People of the world have right to know these facts before making an opinion about Baloch and setting expectations for our future country of Balochistan.

2- Historic connection of Kurd and Baloch with same blood and bones must be endorsed in the Charter. This pride reality has many aspects for mutual support and coordination on strong genetic bases.

Following is suggested to include in Prologue:

“Balochs are one of the most blessed people on earth by all means; our vast country from central Asia till the Baloch Sea in Indian Ocean is full of the most precious treasures materially and spiritually. We are one of the richest nations in the world if we assess our assets of gold, oil, gas, Uranium, and precious stones. We own the longest coast in Asia 1700 km on the opening of strait of Hurmag (Hurmuz) till Karachi. Our pearl like clean sea waters are full of world’s largest prawns, dolphins, sharks, whales, huge size green turtles called living dinosaurs, and other marine life. Millions of years ago the great land of Balochistan was lush with greenery and jungles where lot of food was available this was dinosaurs age. Complete skeleton of one of those dinosaurs was found in Dera Bugti Balochistan, research by the archeologists and zoologists have proved that ancestors of present horses of Balochistan were those dinosaurs named as Balochi Therium. Life is flowing here from pre history till today in a sequence there is not a single evidence of any irrelevance. The whole of Baloch Kurd landscape is full of archeological sites that show our wonderful past and our contribution in human civilization. Mehrgarh is the jewel of Shaal civilization where the very basic tools of human civilization were invented like wheal and expression by writing in symbols called proto writing, and many other inventions in Mehrgarh were used thousands of years later in other civilizations. Wheal is known as the foundation of civilization, as its invention made transportation traveling easy and speedy, pottery manufacture more developed and sustainable, its use in pulley and other basic instruments made economic development faster. It is an honor that wheal was first invented in Mehrgarh Balochistan. Today’s life of Baloch people in divided and occupied territories, facing actions from the states to keep us away from knowledge, infrastructure, development and unification has resulted in many kinds of our depravations and exploitations and someone coming from today’s developed world of renaissance cannot think about our actual contribution in creation of today’s human civilization. That happened when a French archeologist team in leadership of Mr. Jean Francois Jarrige came to the Mehrgarh in December 1974, he visited archeological sites there and thought that as a connecting corridor the remains of karawans from Mohanjo daro and Harrapa of Indus, Shahr e sokhta of Turkmenia and Mandigak of Kandhar civilization are left here but when he excavated deeper and deeper his team was surprised to find that they are in the remains of the mother of all civilizations of the world. They left all other archeological fields and concentrated only on Mehrgarh and areas around it for last 37 years to work more and more and understand the beginning of human society, social relations, economic activities, geographical linkages and impact of Mother civilizcivilization of Mehrgarh on the neighboring civilizations of Central Asia Iran Afghanistan India and Babylon as its grand children. Paintings on pottery discovered from Mehrgarh Mehrgarh Dastar (turban) on head of our ancestors First human writings in symbols. Baloch women have preserved the patterns and symbols of Mehrgarh the Shaal civilization on their dresses and carpets with the help of embroidery and weaving rugs by colored threads as these are the medium of expression for them instead of canvas, type writers, or computers.

The great Kurd nation is the ancestral or mother nation of Baloch with some of African and Arab additions. Kaldani, Adargani, Naroi, Brahui, Zangana are the major ancient Kurd tribes that are indigenous and have multiplied and developed as the major part of today’s Baloch nation. Balochi and Brahui dialects are also spoken by Kurds till today. Brahui is also called Kurdi or Kurdgali. Few hundred years ago a famous Baloch scholar Akhund Saleh wrote a book ‘Kurdgal Namek’ that contains all the details of these Kurds and their fabulous ameers who lived in a very organized, united and respectable manner from Makran to Central Asia. Kurd ancestors have left their cherished memories as Gabrband the catch dams for water management, Miri the Kurd forts and Karez the underground irrigation channels, these are found all around Makran, Jhalawan, Sarawan, Rakhshan, Sibi and Derajat. Khuzdar and Kalat always have been the capital of Balochistan. Baloch country has always been a welcoming homeland for all Kurd Balochs from Halab Syria

, coast of Caspian Sea, and Mount Alboorz whenever they had serious problems with their neighbor nations. Arrival of these Balochs strengthened local Kurd Baloch’s defensive and economic systems and contributed new shades of culture in the existed rich Kurd Baloch culture. This migration is of internal nature; Kurd Baloch people had issues in their habitats they migrated to Balochistan for a safer life with their own Balochs in majority and stronger position but sometimes historians mistakenly assume any one of these great migrations as the whole Baloch history that needs to be corrected. Balochs are living in Balochistan for thousands of years in a proven sequence of all ages pre Neolithic that is before stone age, Neolithic chalcolithic age when humans domesticated animals and started agriculture, till today’s scientific age, and in all these ages we have created almost same geometric designs as motifs, paintings, embroidery, rugs, carvings so it is not only a proof that we are the creators of Mehrgarh, but it is also a unique journey of creative art for eleven thousand years by Kurd Baloch

 

 

women that is mostly made with geometric shapes and permanent colors these colors become more prominent on the rocks when rain falls on these paintings even today. These red and black colors are used in pottery painting in Mehrgarh and many thousand years after in painting of Kurd Baloch heroes and same kind of symbols on rocks in the mountains of Balochistan and Kurdistan.

3-A brief history of resistance against all known invasions and occupations may be added in prologue to show the immensity of Baloch urge for freedom and restoration of our Independent country. Following is suggested to include:

Baloch Resistance History

Baloch has always faced very hard times in history to protect their country and sovereignty. We fought and defeated the Mangols, Greeks, Portuguese, British and now we are fighting against Pakistan and Iran.

. No one succeeded in enslaving us or occupying our country and no one can be because Baloch keeps defense of motherland, culture, and Baloch nation as the first priority, more important than own life.

Mongols conquered a huge part of Asia. There army was thought undefeatable but they could not conquer Balochistan. Memories of that fight are saved in a cave in Pandran near Kalat.

Alexander and his Greek army invaded almost the world but after a fierce fight back from Baloch warriors he had to leave Balochistan, our water was indigestible for him he got very sick and left Balochistan and went back. In fifteenth century European nations were busy in occupying and looting different parts of the world like America Canada Australia Africa and India. Balochistan was also their target. Portuguese navy attacked on the Balochistan’s

coastal cities of Pasni and Gwadar in the leadership of Vasco da gama. Baloch fought with them in leadership of Chief Mir Hammal Jiand Hote and defeated them, arms of Portuguese army snatched by Baloch are still kept in Pasni and one of their cannon is still in Gwadar. The famous series of seven caves of Mir Hammal in the mountain of Battail Gwadar is an astonishing war engineering, as one enters in the first cave in the base of the mountain it opens in the second cave it seems you are going downward, sequence of these seven caves one by one ends in the last seventh cave that opens on the top of the Mount Battail that gives a shocking surprise that only few minutes of walking deep in the caves one after one downwards, end on the top. The top of Mount Battail is a huge fertile plat farm, here clean water to drink and

agriculture is available that served as a safe bunker mount with enough food and water for Baloch to fight for the defense of their country from invading Portuguese armies.

As admiration of bravery and superior war strategies Portuguese made a statue of Mir Hammal Jiand it is still in the Museum of Goa in India.

In late nineteenth century British almost conquered Bengal till Punjab but attack on Balochistan gave them an opposite answer. Marri Baloch fought them at Nafask Kahan defeated British army who left behind there dead bodies and three cannons.

Another historical defeat was given to British General Dire in the mountains and valleys of Taftan by great Balochs and their chiefs Mir Shahsawar, Sardar Khalil Khan, Sardar Jiand Khan by united armies of Gamshadzai, Ismailzai, Yar Mohammadzai and Reki Balochs. British General had to leave the fort of Ladiz, Khwash, Rabat, Mir Jawa, Nusratabad and Kachav.

British spent thirty years to penetrate in Baloch tribes to instigate tribal conflicts by their spies and agents, they succeeded to break our brotherhood and historical unity and a civil war started in Balochistan then British attacked Balochistan again but this time with the support of many Baloch sardars. Baloch King Mir Mehrab Khan fought till last breath along with his companions and martyred. British contacted to the next King of Balochistan called Khan e Kalat to take some strategic areas on lease or rent that links Punjab to Afghanistan.

Khan’s weakened position made him to agree against his and Baloch nation’s will. British signed a number of contracts with Baloch king Khan Khudaidad and took some important strategic areas on lease from him including Shaal (Quetta), Bolan, joined it with the southern part of Afghanistan including Pishin, Chaman, Zhobe occupied by British in the second Afghan war and named this joint Baloch-Pakhtoon area as British Balochistan. As British colonial power made roots deeper in the region they succeeded in dividing Balochistan into four parts; Central part of Balochistan was the only Baloch free country under the rule of Baloch king, Western Balochistan from strait of Hurmag (Hurmuz) Kambaran (Bandar Abbass), Chahbahar, Pahra, Dozzan (Zahedan) Siestan}, was separated by Goldsmith line as a result of declaration of Bompoor conference between Baloch, Gajar (Iran) and British Empire on 1st Dec 1869. Northern part (Nimroz, Hilmund, Rek, Shorawak, Ghoriyaan, kohsaan, gulraan, kalata, pusht e koh) was separated by Durand line and given by the British imperial forces to Afghanistan

under the Anglo-Afghan boundary commission decision in 1896 as bribe to prevent these countries to lobby with Russia and Germany.

The eastern part [Derajat, Khan garh (Jaccobabad) Karachi] was taken on lease and included in British India Eastern Balochistan and British Balochistan was occupied by Pakistan in 1947. On March 27, 1948 Pakistan

army invaded Central Balochistan the last independent part of Balochistan; they arrested the King Khan Ahmad Yar Khan and looted all the royal treasures. Pakistan and Iran

are crushing Baloch by war crimes, including chemical weapons, cluster bombardment on unarmed civilians, poisoning water resources, extra-judicial arrest, torture, killings and public hangings. 14000 Balochs including women and children are missing and thousands of families displaced from homeland that are living in worst health security and livelihood conditions.

Balochs have a history of resistance against any attempt to contain its sovereignty.

1- Wars against Mongol invasion.

2- Wars against Greek invasion.

3-Wars of Mir Hammal Jiand at Gwadar coast against Portuguese 15th century to protect Balochistan.

4-Wars against Afghan invasion on Balochistan

5- War of Marri at Nafask Kahan against British invasion 1826

6- Mir Mehrab Khan fought in defense of Balochistan against

British invasion in Kalat and Martyred.

7- Baloch resistance against declaration of Bampoor conference between Baloch, Persians and British Empire 1st Dec 1869 border demarcation (Goldsmith line) and

withdrawal of Gajar forces from western Balochistan.

8- The revolt of Jask in 1873.-

9- The revolt of Sarhad in 1888.

10- The general uprising in 1889.

11- A major uprising under Baloch chieftain Sardar Hussein Naroui in1896

12- Mir Dost Mohammad’s armed struggle 1928 against Gajar Iran.

13- 1948 Khan of Kalat was arrested and forced to sign instrument of accession to Pakistan prompted a fierce reaction from the Baloch people, who took up arms under the leadership of Prince Abdul Karim then governor of Makran and younger brother of the King.

14- In 1958 the king Khan Ahmad yar Khan was arrested. Against this Nawab Nauroz Khan led rebel he was imprisoned and seven people from his family were executed in the Hyderabad jail.

15-1960 Balochistan Liberation Front fought against Iranian occupation of Balochistan.

16- The resistance movement (1963-1969) led by Mir Sher Muhammad Marri was the continuing expression of Baloch resentment against central rule.

17- In early 1972 Zrombesh was formed by a group of guerrilla fighters. It was led by Mir Rahim Zardkohi and Yar Mohammad Molazai Beywatan. Rahim zardkohi martyred in Pahra in 26 December1979 by Iranian forces.

18- 1973-1977 the first elected Baloch government dissolved by Pakistan

federal government lead Baloch to discard parliamentary politics and start military resistance for freedom.

19- 2000 Mir Balach Marri raised flag of freedom got popularity in Baloch youth. Martyrdom of senior and highly respected Baloch leader Nawab Akbar Khan Bugti fueled the movement a high intensity still going on.

4-Name of Mir Naseer Khan Noori is written as Nasir that needs correction.

5- In Part I The Fundamental Rights describe all aspects of basic human rights in general and religious rights as specific but requires gender equity to be mentioned clearly. Equal rights for men, women and the third gender. Any law or practice that discriminates on bases of gender is unacceptable.

6- In Part IV Meaningful Democracy and Peace, where free media and press, independent judiciary system, free assemblies and associations, equality in economic opportunity, adequate education and multi political parties are mentioned, it would be desirable if gender balanced polices and institutions may also be mentioned.

7- In Part IV Meaningful democracy and Peace, article 27 may include issue of properties acquired through colonial tactics especially in Shaal and Sevi during occupation and now being sold cheaply to non Balochs is unacceptable and this purchasing will have no value.

8-In Part V Constitutional Law and Justice, article 39 says that “Arbitrary deprivation of life by hanging, execution, torture or by any other forms of inhumane practice are contrary to the very spirit of humanity and the Baloch moral codes and values. These inhumane actions will be prohibited absolutely and categorically under the Democratic Republic of Balochistan” It is suggested that death penalty should be totally prohibited and mentioned clearly by any ‘humane’ or ‘inhuman’ way. Today people are giving high value to human life; movements against death penalty are active around the world and succeeded in abolishing it from many civilized countries. Before occupations Baloch laws have no history of death penalty and we must be proudly present it to the world and our coming generations.

9-In Part VI Against Discrimination and for Equal Opportunity, article 43 may change the word sex by gender.

10- In Part VI Against Discrimination and for Equal Opportunity, article 48, CEDAW should also be included. The Convention on the Elimination of All Forms of Discrimination against Women (CEDAW), adopted in 1979 by the UN General Assembly.

11- In Part VIII The Sovereign State of Balochistan, article 62 includes women with disabled, senior citizens and children as vulnerable and unrepresented that would not be a real image of women’s powers and ability to change the world. Baloch women are already proving this as forefront activists of present freedom movement. The word “women” should be removed from this article. An article should be added as “ women will have fifty percent representation in all decision making institutions, development plans and actions, education and job opportunities.

12- Part IX Society, Economy and Environment Brahuie should be spelled as Brahui as written and approved by the International conference on Brahui language and literature, Shaal 1997.

13- In part IX article 69 says “Chokkeyn Balochani” is the anthem of Baloch Liberation Struggle. The National anthem of sovereign Balochistan will be chosen and approved by the first constituent Assembly or Balochistan National Assembly. It is suggested that one line” may tursa zami larzit” should be changed now without waiting for the constitutional assembly because zamin is our mother that prays for us she should not be afraid of us, that also gives a negative macho nature unfriendly image of Baloch that is not true.

14- In Part IXart policies and initiatives to ensure 100% education should also be added.

15- In Part IX Preservation of our heritage, Miris, Gabr band, archeological sites such as Mehrgarh, seven caves of Mir Hammal in mount Battail Gwadar and many others should be mentioned.

Thank you and best wishes for success. We shall win our sovereignty back. Struggle till Victory!

In solidarity

Professor Naela Quadri Baloch

President

World Baloch Women’s Forum

 

 


Rss_feed